ابنا: ملائیشیا کی سب سے بڑی جماعت متحدہ قومی جماعت نے اس ملک کی پارلیمینٹ کے دیگر ارکان سے اپیل کی ہے کہ اس ملک کے فیڈرل بنیادی آئین میں مسلمانوں کے عنوان سے صرف اہل سنّت کے پیروکاروں کو ہی سرکاری سطح پر تسلیم کیا جائے اور اس حوالے سے صرف انہی کی حمایت اور پشتپناہی کا اعلان کیا جائے۔ ملائیشیا کی "متحدہ قومی جماعت" میں نوجوانوں کے امور کے انچارج "عزالجاسمی محمد" نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ بل اہل تشیع کے اثر و رسوخ کو کم کرنے اور اسلام کی نجات کے لئے پیش کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ کچھ ہی دن قبل ملائیشیا کی قومی فتوایٰ کونسل نے اس ملک میں اہل تشیع کی تعلیم پر پابندی عائد کئے جانے کا اعلان کیا تھا اور نماز جمعہ کے خطبوں میں اہل تشیع کو ملائیشیا کے مسلمانوں کے لئے خطر قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ اقدام ایسی صورت حال میں سامنے آیا ہے کہ ملائیشیا کی سب سے بڑی جماعت UMNO کے سابق سربراہ "تون عبداللہ احمد بداوی" اور اسی طرح اس ملک کے سابق وزیراعظم نے کچھ برسوں قبل اردن میں ایک بین الاقوامی دستاویز پر دستخط کئے تھے، جس کے مطابق شیعہ مذہب کو بھی اس ملک کا سرکاری مذہب قرار دیا اور شیعہ مسلمانوں کو بھی اسلامی امہ کا ایک عظیم جز سمجھا گیا ہے۔
.......
/169